خبردار

دو بول ہمدری کے سن کے
جو دل پگلنے لگا
تو ہم نے دل سے بس اتنا کہا
اے دلِ ناداں
خبردار
اب کے کسی کی ہمدری کو
محبت نہ سمجھانا
نہیں تو پہلے کی طرح
پھر ٹوٹ کے بکھرنا پڑئے گا
اور اب کے جو بکھراتو
دنیا سے رشتہ توڑنا پڑئے گا
بے موت مرنا پڑئے گا

از " محمد یاسر علی"
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

تم نہ بھول جانا

مجھے یاد ہیں
بچپن کی وہ ساری باتیں
وہ معصوم سی شرارتیں
وہ بات بات پہ
ایک دوسرے سے روٹھنا، منانا
وہ بنا کچھ کہے ہی
ایک دوسرے کے اشارے سمجھ جانا
وہ میری غلطیوں پہ
کبھی غصے سے ڈانٹنا
تو کبھی پیار سے سمجھانا
اپنا کوئی کام
کوئی فرمائش
مجھ سے کہنے سے پہلے
وہ خوشامد کرنا
وہ مکھن لگانا
وہ بچپن کی ساری باتیں
وہ معصوم سی شراتیں
مجھے سب یاد ہیں مگر
دیس پیا کے جاکے
تم نہ بھول جانا
میری پیاری بہنا

از " محمد یاسر علی "
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میری خواہشات۔ ریت کا گھروندہ

میں ساحل پہ ریت کا گھروندہ بنا کے چلا تھا اس کو بسانے کے لیے اور یہ بھول گیا تھا کہ سمندر سے اس تک پہنچنے والی پہلی لہر ہی اس کو اپنے ساتھ بہا کے لے جائے گئی چند دن پہلے جب زندگی نے میرے در پہ دستک دی تو میں نے زندگی کے لیے اسے کھولنے کی کوشش کی یہ بھول گیا کہ اس کو اتنا زنگ لگا ہے کہ اس کو کھولنا میرے بس میں نہیں ۔ زندگی کو گلے لگانے کی خواہش میں میں اپنی زندگی سے جوڑی چند تلخ حقیقتوں کو بھول گیا تھا مگر آج کسی ہمدرد کے صرف دو جملوں نے مجھے یاد دلادیا کہ میں کیا کیا بھول رہا ہوں ۔اور جب ان تلخ حقیقتوں کا سامنا ہوا تو پھر سب خواہشات ، امیدیں خاک میں مل گئیں اور اب میں دیکھ رہا ہوں کہ کیسے پہلی لہر ہی میرے ریت کےگھروندے کو بہا کے لے جارہی ہے یہ میرا خواب تھا خواب جب ٹوٹے ہیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ جی چاہتا ہے کہ کسی کے کندھے پہ سر رکھ کے خوب روں مگر میں جانتا ہوں کہ رونے کے لیے کسی کا کندھا تو شاید میرے نصیب میں نہیں لیکن میرے جنازئے کے لیے بہت سے کندھے موجود ہیں سوچتا ہوں کیوں نہ ان کو ہی زحمت دے لوں مگر پھر نجانے کہاں سے ایک ہلکی سی آواز آتی ہے اتنی جلدی بھی کیا ہے کہ امید ابھی ٹوٹی نہیں۔ کیا ہوا یہ گروندہ ٹوٹ گیا تو ،اسے پھر کسی محفوظ جگہ پہ بنانے کی ایک اور کوشش کر لیتا ہوں۔

از " محمد یاسر علی "
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کسی اپنے کے نام

ہم نے سب سے الگ
اپنے ہی خیالوں کی اک دنیا تھی بسائی
اسی میں کھوئے رہتے تھے
چاروں جانب ہمارے زندگی شور مچاتی تھی
ہم بس چپ چاپ سے رہتے تھے
دل چاہے خون کے آنسو روتا
لب مگر ہر پل مسکراتے تھے
تنہاء ہی سہی
زندگی بڑی پر سکون تھی
پھر اک دن کیا ہوا
اک حسن کی دیوی
ہمیں درشن دینے آئی
اس نے ہم کوجو جان کہہ دیا
ہم نے اسے اپنی جان مان لیا
اس نے جب پوچھا تو
اپنا سب حالِ دل کہہ دیا
ہم جو ہر وقت مرنے کی دعا کرتے تھے
اب کے ہم نے بھی جینا چاہا
اب کے ہمارے لبوں پہ سجی مسکان
کوئی پہلے سا دکھاوا نہ تھی
سب کچھ خواب سا لگتا تھا
مگر پھر اک دن یوں ہوا
میرا خواب ٹوٹ گیا
اس حسن کی دیوی کو
اک دیوتا مل گیا
اور اسے یاد تک نہ رہا
کوئی اور بھی ہے
جو اس کے لیے ہے جی رہا
کتنی بے رحمی سے
ہمارے دل کو پاوں تلے مسل کے
وہ کسی اور کے ساتھ نکل گیا
پہلے کتنا اچھا تھا
ہم سب کے سامنے تو مسکراتے تھے
چاہے تنہائی میں جتنا بھی روتے تھے
اپنی دنیا میں کھوئے رہتے تھے
کسی سے کوئی گلہ تو نہ تھا
چاہے زندہ لاش ہی تھے
پر جینا اتنا مشکل تو نہ تھا
جیسا حال اب ہے میرا
ایسا حال تو نہ تھا
دنیا سے خفا ہی سہی
لوگوں سے اعتبار اٹھا تو نہ تھا
اک امید تو تھی
کہ زندگی بدلے گئی
کبھی تو غم کی رات کٹے گئی
زندگی میں خوشیوں بھری
کوئی سحر آئے گئی

از " محمد یاسر علی "

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پونے دو گھنٹے پہلے

کتنے ارمان لیے چلا تھا میں گھر سے جانبِ منزل 
نہ تھی خبر بیچ راہ میں ٹکڑوں بٹ جاوں گا 
نکلا تھا میں اپنوں کے لیے خوشیاں خریدنے 
نہ تھی خبر دامن ان کا غموں سے بھر جاوں گا 

پونے دو گھنٹے پہلے خوشی خوشی خدا حافظ کہا گیا تھا 
اب آنسوں کی بارش میں، میں رسیو کیا جاوں گا 
دنیا والے تو دو دن میں ہی مجھے بھول جائیں گئے یاسر 
صرف اپنوں کی یادوں میں عمر بھرکے لیے رہ جاوں گا
از " محمد یاسر علی "

اللہ پاک بھوجا ائر کے حادثہ میں جاں بحق ہونے والے کی مغفرت فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطاء فرمائے آمین
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

تحقیقاتی کمیٹی کا اعلان


چند دن میڈیا پہ میری موت کا خوب تماشہ دیکھایا جائے گا 
گورنمنٹ کی جانب سے تحقیقات کا ڈرامہ رچایا جائے گا 
پھر کیا ہوگا، سارا الزام اک پائیلٹ کے سر ڈال کر 
تحقیاتی رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھنک دیا جائے گا 

از " محمد یاسر علی " 
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جی ایکس 7 اردو سانچہ برائے بلاگر ( G.X.7 Urdu Template )




اس سانچہ میں اردو ایڈیٹر اور مراسلات کے خودکار خلاصہ کا نظام موجود ہے۔

یہ سانچہ آپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔
Download:
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
ایک ساتھ ہوتے ہوئے بھی
بیچ میں صدیوں کی ہیں مسافتیں ہوتیں
اور کبھی
ہزاروں میل دور ہوتے ہوئے بھی
سب دوریاں ہیں مٹ جاتیں

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
صدیوں کی جان پہچان سے بھی نہیں
ہر روز کی ملاقات سے بھی نہیں
انجانا پن ، بیگانہ پن جاتا
اور کبھی
بنا دیکھے ، بنا جانے
کوئی اپنا ہے بن جاتا۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
زندگی کے مشکل دور میں
خون کے رشتے بھی ساتھ نہیں دیتے ہیں
اور کبھی
منہ بولے رشتہ پہ بھی
لوگ جان وار دیتے ہیں

از " محمد یاسر علی "
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

محمد یاسر علی

بڑا عجیب انسان ہے یہ
اپنوں نے تو اسے اپنایا نہیں
یہ غیروں کو اپنا بنانا چاہتا ہے
خالی ہاتھ،منزل سے بھٹکا ہوا
آوارہ انسان ہے یہ
بات تک تو کرنے کا ہنر آتا نہیں
اور دعوہ کرتا ہے شاعری کا
وطن کی خاطر کچھ بھی تو کر سکا نہیں
بڑا بنا پھرتا ہے وطن پرست یہ
اک قیمتی مشورہ ہے اس کے لیے میرا
اے ناداں
یہاں کوئی بھی تیرا نہیں
کسی کو تیری ضرورت بھی نہیں
صرف اک بوجھ ہے اس دھرتی پہ تو
اس لیے
انسانوں کی بستی سے منہ موڑ لے تو
کسی ویرانے میں مکیں ہو جا تو
دنیا والے کچھ بھی کریں
کچھ بھی کہتے رہیں
اپنے ہونٹ سی لے تو
گوشہ نشیں ہو جا تو

از " محمد یاسر علی "
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

شاہی قلعہ روات ( Rawat Fort )

روات راولپنڈی سے تقریبا 17 کلو میٹر کی دوری پہ لاہور ، راولپنڈی جی ٹی روڈ پہ واقع ضلع اسلام آباد کا ایک چھوٹا سا شہر ہے. اس کو اسلام آباد کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے یہاں ایک تاریخی قلعہ واقع ہے جس کو شاہی قلعہ روات کہا جاتا ہے۔ قلعہ میں داخلہ کے دو دروازے ہیں یہ الگ بات ہے کہ روات کے باسیوں نے ایک اور جگہ سے بھی راستہ بنا لیا ہے۔






مرکزی دروازہ کے سامنے  ایک گنبد نما مقبرے جیسی عمارت ہے۔


یہاں تین گنبد نما کمروں پہ مشتعمل ایک مسجد ہے جس کو اب اندر اور باہر سے پلسٹر کردیا گیا ہے۔


 قلعہ کی دیواروں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے ہیں۔ جو اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ مسجد کی جانب والی دیوارکے ساتھ واقع کمروں کو استنجاہ خانوں میں بدل دیا گیا ہے۔


 قلعہ کے مرکز میں کئی قبریں ہیں. ان میں سے ایک سلطان سارنگ خان کی ہے۔


یہاں سلطان سارنگ خان کے سولہ بیٹوں کی قبریں بھی ہیں جو 1540 میں یہاں جنگ کرتے ہوئے مارے گئے تھے۔





قلعہ کے باہر گورنمنٹ کی جانب سے لگائے گئے بورڈ پہ مندرجہ ذیل اقتباس تحریر ہے۔ 

"روات عربی زبان کے لفظ ربات کی بگڑی ہوئی شکل ہے ربات کے لغوی معنی سرائے کے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ قلعہ درحقیقت ایک قدیم کاروان سرائے تھا جو کہ جرنیلی روڈ کے ساتھ مسافروں کی سہولت یا سرکاری اہلکاروں کے ٹھہرنے کیلئے بنائی گئی تھی اس کا فن تعمیر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ قلعہ نماسرائے پندرہویں صدی کے اوائل میں سلاطین دہلی کے زمانے میں تعمیر ہوتی تھی لیکن اس قلعے کو سلطان محمود غزنوی کے بیٹے مسعود کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے جس کا زمانہ 1036ء ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے لشکر کے باغی سپاہیوں نے اسے اس قلعے میں گرفتار کیا اور بعد میں ٹیکسلا کے نزدیک گڑی کے قلعے میں لے جا کر قتل کردیا یہ قلعہ بعد میں گکھڑ قبیلے کے سردار سارنگ خان کے قبضے میں آیا جو کہ اپنے سولہ بیٹوں کے ساتھ شیر شاہ سوری کے ہاتھوں قتل ہوا اور اسی قلعے میں دفن کیا گیا۔
موجودہ قلعہ فصیل اور دو دروازوں پر مشتمل ہے صدر دروازے کا رخ مشرق کی جانب ہے جبکہ عقبی دروازہ شمال کی طرف کھلتا ہے۔ فصیل کے اندر چاروں اطراف میں ہجرے بنے ہوئے ہیں۔ فصیل کے اندر دیگر تاریخی عمارتوں میں یاک ہشت پہلو مقبرہ ایک مسجد اور چند قبریں ہیں"


مذید تصاویر:۔ 








مکمل تحریر اور تبصرے >>>